یہ کہانی ہے ملتان سے آئے ہوئے میاں بیوی کی
فیروزوالا ضلع شیخوپورہ رانا ٹاؤن چونکی
ملتان سے آئے ہوئے دو میاں بیوی اپنی روزی روٹی کی تلاش میں فیروز والا ضلع شیخوپورہ میں مقیم تھے وہ لڑکا ڈرائیور تھا اس کی بیوی ایک گھریلو خاتون تھیں یہ دونوں میاں بیوی فیروزوالا کے جس محلے میں رہتے تھے اس محلے میں ایک آنٹی پولیس والوں کو لڑکیاں سپلائی کرتی ہیں فیروزوالا چونکی بطور سپاہی شاہد عرف مٹھو کی نظر اس لڑکی پر پڑی جو ملتان سے اس محلے میں رہنے نے کے لیے آئے تھے شاہد عرف مٹھو ایک درندہ صفت انسان ہے اس نے اس آنٹی سے کہا کہ اس لڑکی کی سیٹنگ مجھ سے کرواؤ وہ لڑکی ایک نیک اور صاف ستھرے گھرانے سے آئی تھی تو اس آنٹی نے اس پولیس والے شاہد عرف مٹھو کو مشورہ دیا اس لڑکی کے ہسبنڈ پر کوئی فرضی کیس بنا کے کے اسے جیل میں ڈال دو تو وہ لڑکی خود بخود آپ کے پاس آ جائے گی فیروزوالا چونکی میں شاہد عرف مٹھو میں نے ایسا ہی کیا کیا وہ محنت کش ایک ڈرائیور کو کسی کیس میں پھسا کر ایک ماہ تک جیل میں بھیج دیا شاہد عرف مٹھو وہ لڑکی کے ہسبنڈ کے جیل میں جانے کے بعد اس کے گھر میں آ کر سرعام دھمکیاں دینے لگا شاہد عرف مٹھو اس لڑکی سے کہتا رہا کہ آپ میرے ساتھ ایک رات گزارو ورنہ میں آپ کے ہسبنڈ کو کبھی رہا ہونے نہیں دوں گا وہ بچارا ڈرائیور ایک ماہ کی سزا کاٹ کر جب واپس آیا تو اس کو بھی دھمکانے لگا کہ اپنی بیوی کی سیٹنگ مجھ سے کرواؤ ورنہ میں تمہیں دوبارہ کسی اور کیس میں اندر کروا دوں گا شاہد عرف مٹھو فیروزوالا چونکی کے پولیس والے کی ہمت چیک کریں پھر اس نے جو کہا وہ کر دکھایا اس ڈرائیور بیچارے کو دوبارہ ہتھکڑی لگا کر کھانے میں لے آیا اور کوئی فرضی کیس بنانے لگا یہ پولیس والا دن رات اس کی بیوی کو پریشان کرتا اور اپنے پاس بلاتا اور اس کی بیوی سے کہتا کہ میرے ساتھ ایک رات گزارو تو میں تمہارے ہسبینڈ کو رہائی دوں گا یہی معاملہ کوئی پولیس والا اگر کسی امیر لڑکی کے ساتھ کرتا تو لوگ اس کی جان کے دشمن بن جاتے لیکن اس پوری میں لڑکی اور لڑکا دونوں غریب ہیں ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ قومیں تباہ و برباد کر دی گئیں جن کے امیر لوگوں کے لئے قانون اور غریبوں کے لئے قانون اور تھے فیروزوالا ضلع شیخوپورہ کے ڈی پی او کو چاہیے کہ اپنے ایئرکنڈیشنر کمرے چھوڑ کر غریب عوام کا بھی حال پوچھیں
اسٹوری کی ویڈیو دیکھنے کے لئے کلک کریں
Comments
Post a Comment